،
آج من خالی ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے
ان خوشنما ہواؤں کا حال کہوں
یا نہ گزری شب کا وہ سوال کہوں
تیرے ہوبہو ، اس قمر کی چال کہوں
_یا تیرے کبھی نہ آنے کا ملال کہوں
،
آج من خالی ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے
سبز نہ ہوسکے جو ہاتھ ، مرے نام ک مہندی سے
اب تمہیں کہو ، انھ حنا سے ، یا میرے لہو سے لال کہوں
جسمیں قید ہیں، میری دھڑکنیں اب تک
کیوں نہ تیرے اس آگوش کو ، میری روح کا جال کہوں ؟
،
آج من خالی ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے
--------
لیکھنی
اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
-----------------------------
Read it in Devanagri script
Transliteration by: C. Srishilan
-----------------------------
Read it in Devanagri script
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں