21 مارچ، 2018

خالی من

، آج من خالی  ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے

ان خوشنما ہواؤں کا حال کہوں
یا نہ گزری شب کا وہ سوال کہوں
تیرے ہوبہو ، اس قمر کی چال کہوں
_یا تیرے کبھی نہ آنے کا ملال کہوں

، آج من خالی  ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے

 سبز نہ  ہوسکے جو ہاتھ ، مرے نام ک مہندی سے
اب تمہیں کہو ، انھ حنا سے ، یا میرے لہو سے لال کہوں
جسمیں قید ہیں، میری دھڑکنیں اب تک
کیوں نہ تیرے  اس آگوش کو ، میری روح کا جال کہوں ؟

، آج من خالی  ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے
--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script
 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں