مانا زمین میں گڑا ہوں،
-پر رخ تو آسماں کا کیا ہے
کیا زلزلے، کیا طوفان
-سامنا سبکا ، سینہ تان کے کیا ہے
دھرا اور سورج کا ہر ستایا،
-میرے آگوش میں آکر ضرور جیا ہے
پر آج میں پریشاں ہوں کیونکہ،
جسکی ہر سانس کا میں سہارا ہوں،
-اب اسی کی بےپناہ بھوکھ اور ظلم سے ہارا
ہوں
اپنی بھی نسل کو نا بخشا،
- وہ میری کیا حفاظت کریگا
- شاید کل کنکریٹ کے جنگل مے دم گھٹ کے
مریگا
... کئ
دفعہ سوچا
قدر نہیں جب اسے میری،
کیوں نہ میں خود زمیندوز ہو کر،
.... اسکا بھی ناموںشاں مٹا دوں
پھر سوچتا ہوں ، کسلئے؟
فطرت نہیں ہے یہ میری،
-پیڑ ہوں ، انساں نہیں ، شاید اسلئے
-پیڑ ہوں ، انساں نہیں ، شاید اسلئے
-پیڑ ہوں ، انساں نہیں ، شاید اسلئے
--------
لیکھنی
اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
-----------------------------
Read it in Devanagri script
Transliteration by: C. Srishilan
-----------------------------
Read it in Devanagri script

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں