4 نومبر، 2017

بیقراری

تیرے در کی بیقراری میں ، یے رل،
گونجتے ارمانوں کو، دبی زباں میں کہے- 

پی کر زمانے بھر کے، حوصلوں کا سیلاب، 
دشتیں جگر کی، میرے آںسوں میں بہے-

اب منزلوں کی آس میں، دھںدھلا رہے چراغ‎‎‍،
بتا چاںر! تیری خاطير،
کب تک مسافر، ان ستاروں کو سہے-

--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script

Pic credits: Flickr

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں