تیرے در کی بیقراری میں ، یے رل،
گونجتے ارمانوں کو، دبی زباں میں کہے-
پی کر زمانے بھر کے، حوصلوں کا سیلاب،
دشتیں جگر کی، میرے آںسوں میں بہے-
اب منزلوں کی آس میں، دھںدھلا رہے چراغ،
بتا چاںر! تیری خاطير،
کب تک مسافر، ان ستاروں کو سہے-
--------
لیکھنی
اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
-----------------------------
Read it in Devanagri script
Transliteration by: C. Srishilan
-----------------------------
Read it in Devanagri script
![]() |
| Pic credits: Flickr |

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں