21 مارچ، 2018

خالی من

، آج من خالی  ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے

ان خوشنما ہواؤں کا حال کہوں
یا نہ گزری شب کا وہ سوال کہوں
تیرے ہوبہو ، اس قمر کی چال کہوں
_یا تیرے کبھی نہ آنے کا ملال کہوں

، آج من خالی  ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے

 سبز نہ  ہوسکے جو ہاتھ ، مرے نام ک مہندی سے
اب تمہیں کہو ، انھ حنا سے ، یا میرے لہو سے لال کہوں
جسمیں قید ہیں، میری دھڑکنیں اب تک
کیوں نہ تیرے  اس آگوش کو ، میری روح کا جال کہوں ؟

، آج من خالی  ہے ، یا کہوں
_ ک تھوڈا خیالی ہے
--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script
 
 

4 نومبر، 2017

بیقراری

تیرے در کی بیقراری میں ، یے رل،
گونجتے ارمانوں کو، دبی زباں میں کہے- 

پی کر زمانے بھر کے، حوصلوں کا سیلاب، 
دشتیں جگر کی، میرے آںسوں میں بہے-

اب منزلوں کی آس میں، دھںدھلا رہے چراغ‎‎‍،
بتا چاںر! تیری خاطير،
کب تک مسافر، ان ستاروں کو سہے-

--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script

Pic credits: Flickr

4 اگست، 2017

ایک پیڑ کا درد


مانا زمین میں گڑا ہوں، 
-پر رخ تو آسماں کا کیا ہے 

کیا زلزلے، کیا طوفان
-سامنا سبکا ، سینہ  تان کے کیا ہے 

دھرا اور سورج کا ہر ستایا، 
-میرے آگوش میں آکر ضرور جیا ہے
پر آج میں پریشاں ہوں کیونکہ، 
جسکی ہر سانس کا میں سہارا ہوں، 
-اب اسی کی بےپناہ بھوکھ اور ظلم سے ہارا ہوں 
اپنی بھی نسل کو نا بخشا،
- وہ میری کیا حفاظت کریگا 
- شاید کل کنکریٹ کے جنگل مے دم گھٹ کے مریگا 

... کئ دفعہ سوچا
قدر نہیں جب اسے میری،
کیوں نہ میں خود زمیندوز ہو کر،
.... اسکا بھی ناموںشاں مٹا دوں
پھر سوچتا ہوں ، کسلئے؟
فطرت نہیں ہے یہ میری،
-پیڑ ہوں ، انساں نہیں ، شاید اسلئے
-پیڑ ہوں ، انساں نہیں ، شاید اسلئے


--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script

تتلیاں

 بہت بھیڑ تھی، آج رستے میں،
ایسا نظارہ، نا ملے جو، سستے میں -
ادھر بھی تی دوڑ لگی، ادھر بھی تھی حوڑ لگی ،
بس ہر  طرف تھی،
چەکتی تتلیاں ، مەکتی تتلیاں - 

گن نا سکو ، اتنے تھے رنگ،
سبکی الگ رفتار اور اڑنے کے ڈھنگ -
زمیں چپکی تھی میرے پیروں سے ،
پر من اڑ رہا تھا انکے سنگ -
انکی اٹھکھیلیاں ، کبھی اکیلے یا سنگ سەیلیاں ،
اس پیڑ سے اس پیڑ پر ، اس پھول سے اس پھول پر ،
مانو رکنا بھول گئ تیں ، آج یہ تتلیاں -

لال ، گلابی ، پیلے اور نیلے ،گل تھے انتظار میں،
کسکی پیڑی آگے بڑےگی،
یا ہوگا وە آخری ،اس سنسار میں -
مسلہ جتنا گمبھیر تھا ، نہیں گمبھیر تھی تتلیاں ،
ریکھا ان پھولوں کو ،سکون میں، چھو گئ تھی جنہیں جنون مین،
وە بیچین تتلیان -

کچھ رنگین پنکھ ، بخرے تھے زمیں پر ،
ذمانے کی رفتار کی ، یا کہو موٹرکار کی ،
بن گئ تی شکار، صبح سویرے ، کچھ تتلیاں -

کچھ زیادا ەی مہنگے تھے ، شایر یہ رنگین نظارے ،
پحیے لگے ەیں ، جن پیروں مین، کیسے ٹھەریں ، وە بیچارے ،
اک روز کا سکون کمانے ، ہفتے لدے ەین کنرھون پے ہمارے،
رن ، مەینے، سال تو چھوڑو ، اسی علجھن میں ہیں جیون گزارے ، 
پر  کیا ،
اک جوڑی پھڑپھڑاتے،
یہ ریشمی پنکھ ، غم سوخ  سکتے ہیں سارے ؟
لو آ بیٹھی ہیں ، پھر سے، میری ہتھیلی پر ، دو اور تتلیاں ،
 ہرعور ہیں یہ تتلیان ، رہیں میری عور یہ تتلیان ،
 رہیں تیری عور بھی یہ تتلیان ..... تتلیان ..... تتلیان --
 
--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script
 
 
 

خواب


ہر روز اک نیا خواب دیکھتا ہوں،
ہر خواب میں خد کو تیرے ساتھ دیکھتا ہوں-

دن میں سینکڑوں چہرے سامنے آتے ہیں ،
قسم سےسبھی مجھے بہت بھاتے ہیں ،
کیوںکہ 
شاید ہر چہرے میں ، تمہارا یە چہرہ صاف ریکھتا ہوں -

تمہاری یہ گول گول نشیلی آنکھیں،
اور پل پل جھکتی پلکیں ،
بیاں کرنا تمہارا سب کچھ ،
یوں مسکرا کے حلکے،
قریب آتی میری تباہی ،
ان اداؤں میں صاف دیکھتا ہوں -

ہر روز اک نیا خواب دیکھتا ہوں،
ہر خواب میں خد کو تیرے ساتھ دیکھتا ہوں -



--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script
 

3 اگست، 2017

لبریز


دل کہتا  ہے، کہہ  دوں تمہیں کچھ ایسا،
محسوس میری دھڑکن کو تو کرے اپنے حیسا

 اک شبد بھی نا لگے، یہ سب کہنے میں،
سکون ملے بس، تیرے پاس رہنے میں

تم بھی کہو، نا کچھ، تو بھی میں سمجھوں سب،
انکہے کو سننے کی، لگن لگی ہے اب

آج بھلے ڈھل جائے سورج، پر رہے،یہ سانجھ یہیں،
لبریز مون ہے دریا سا، بہنے دے اسے، اب باںدھ نہیں


--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script


رہبر



کبھی کبھی ہم، عجیب پشو پیش میں رہتے ہیں
جب وە نشیمن عںکھوں والے،حمےں سںگدل کەتے ہیں

شکایت ہے، قریب ہونے پر تو ہم، گوںگے سے رہتے ہیں
پر دور جاتے ہی، انکی تاریف میں شیعاری کیسے کہتے ہیں؟

اب تم ہی کحو مسافر، ہم کیسے یہ گناە کبولیں
سٹکر بیٹھے، رہبر کی تعریف میں، کیسے یہ ہوںٹھ کھلیں؟

لاد لپیٹے مےرے کچّھے لفظ، اس حلق  سے اس حلق کو بہتے ہیں 
بےبس میرے ہوںٹھوں کو ہردم وہ، ہوںٹھوں میں اپنے، جکڑے جو رہتے ہیں
---------
لیکھنی
اجے  چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
------------

Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script:
https://dastaan-ae-dil.blogspot.in/2017/07/rahbar.html
-------------------------