کبھی کبھی ہم، عجیب پشو پیش میں رہتے ہیں
جب وە نشیمن عںکھوں والے،حمےں سںگدل کەتے ہیں
شکایت ہے، قریب ہونے پر تو ہم، گوںگے سے رہتے ہیں
پر دور جاتے ہی، انکی تاریف میں شیعاری کیسے کہتے ہیں؟
اب تم ہی کحو مسافر، ہم کیسے یہ گناە کبولیں
سٹکر بیٹھے، رہبر کی تعریف میں، کیسے یہ ہوںٹھ کھلیں؟
لاد لپیٹے مےرے کچّھے لفظ، اس حلق سے اس حلق کو بہتے ہیں
جب وە نشیمن عںکھوں والے،حمےں سںگدل کەتے ہیں
شکایت ہے، قریب ہونے پر تو ہم، گوںگے سے رہتے ہیں
پر دور جاتے ہی، انکی تاریف میں شیعاری کیسے کہتے ہیں؟
اب تم ہی کحو مسافر، ہم کیسے یہ گناە کبولیں
سٹکر بیٹھے، رہبر کی تعریف میں، کیسے یہ ہوںٹھ کھلیں؟
لاد لپیٹے مےرے کچّھے لفظ، اس حلق سے اس حلق کو بہتے ہیں
بےبس میرے ہوںٹھوں کو ہردم وہ، ہوںٹھوں میں اپنے، جکڑے جو رہتے ہیں
---------
لیکھنی
اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت
------------
Transliteration by: C. Srishilan
-----------------------------
Read it in Devanagri script:
https://dastaan-ae-dil.blogspot.in/2017/07/rahbar.html
-----------------------------
Read it in Devanagri script:
https://dastaan-ae-dil.blogspot.in/2017/07/rahbar.html
-------------------------

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں