3 اگست، 2017

لبریز


دل کہتا  ہے، کہہ  دوں تمہیں کچھ ایسا،
محسوس میری دھڑکن کو تو کرے اپنے حیسا

 اک شبد بھی نا لگے، یہ سب کہنے میں،
سکون ملے بس، تیرے پاس رہنے میں

تم بھی کہو، نا کچھ، تو بھی میں سمجھوں سب،
انکہے کو سننے کی، لگن لگی ہے اب

آج بھلے ڈھل جائے سورج، پر رہے،یہ سانجھ یہیں،
لبریز مون ہے دریا سا، بہنے دے اسے، اب باںدھ نہیں


--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں