4 اگست، 2017

تتلیاں

 بہت بھیڑ تھی، آج رستے میں،
ایسا نظارہ، نا ملے جو، سستے میں -
ادھر بھی تی دوڑ لگی، ادھر بھی تھی حوڑ لگی ،
بس ہر  طرف تھی،
چەکتی تتلیاں ، مەکتی تتلیاں - 

گن نا سکو ، اتنے تھے رنگ،
سبکی الگ رفتار اور اڑنے کے ڈھنگ -
زمیں چپکی تھی میرے پیروں سے ،
پر من اڑ رہا تھا انکے سنگ -
انکی اٹھکھیلیاں ، کبھی اکیلے یا سنگ سەیلیاں ،
اس پیڑ سے اس پیڑ پر ، اس پھول سے اس پھول پر ،
مانو رکنا بھول گئ تیں ، آج یہ تتلیاں -

لال ، گلابی ، پیلے اور نیلے ،گل تھے انتظار میں،
کسکی پیڑی آگے بڑےگی،
یا ہوگا وە آخری ،اس سنسار میں -
مسلہ جتنا گمبھیر تھا ، نہیں گمبھیر تھی تتلیاں ،
ریکھا ان پھولوں کو ،سکون میں، چھو گئ تھی جنہیں جنون مین،
وە بیچین تتلیان -

کچھ رنگین پنکھ ، بخرے تھے زمیں پر ،
ذمانے کی رفتار کی ، یا کہو موٹرکار کی ،
بن گئ تی شکار، صبح سویرے ، کچھ تتلیاں -

کچھ زیادا ەی مہنگے تھے ، شایر یہ رنگین نظارے ،
پحیے لگے ەیں ، جن پیروں مین، کیسے ٹھەریں ، وە بیچارے ،
اک روز کا سکون کمانے ، ہفتے لدے ەین کنرھون پے ہمارے،
رن ، مەینے، سال تو چھوڑو ، اسی علجھن میں ہیں جیون گزارے ، 
پر  کیا ،
اک جوڑی پھڑپھڑاتے،
یہ ریشمی پنکھ ، غم سوخ  سکتے ہیں سارے ؟
لو آ بیٹھی ہیں ، پھر سے، میری ہتھیلی پر ، دو اور تتلیاں ،
 ہرعور ہیں یہ تتلیان ، رہیں میری عور یہ تتلیان ،
 رہیں تیری عور بھی یہ تتلیان ..... تتلیان ..... تتلیان --
 
--------
لیکھنی
 اجے چہل مسافر
مدراس ، بھارت 
-------------
Transliteration by: C. Srishilan
 -----------------------------
Read it in Devanagri script
 
 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں